Skip to main content

Posts

مولانا محمد شعیب الازھری صاحب حفظہ الله بالاکوٹ ڈھیری زمان

مولانا محمد شعیب الازھری صاحب حفظہ الله بالاکوٹ ڈھیری زمان           🌺مئی7سنہ2018بروز پیر🌺 مفہوم حدیث مبارک: (تم میں بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سیکھاۓ) بالاکوٹ: کھولیاں درویش آباد کے محلے ڈھیری زمان سے تعلق رکھنے والے اک عالم دین کا مختصر تعارف کھولیاں علماء اکرام و حفاظ اکرام کا گڑھ ہے، اکثریت علماء اکرام کی پاکستان کے مختلف شہروں سمیت بیرون ملک میں بھی دینی خدمات سرانجام دے رہی ہے،  پچھلی تحریر میں چند علماء اکرام کےبارےمیں لکھا تھا، آج آپکو اک اور عظیم شخصیت کا تعارف کروانے جا رہا ہوں جو کسی تعارف کےمحتاج تو نہیں، ان کی دینی خدمات نے ان کو بہت بڑا مقام دلایا، نئی نسل شاید اتنی معلومات نہ رکھتی ہو ان کے بارے میں البتہ بڑی عمر کے لوگ بڑے قریب سے جانتے ہیں۔  آج صرف بات ہو گی- مولانا محمدشعیب الازھری صاحب حفظہ اللہ  ڈھیری زمان کھولیاں والے کی جنہوں نے اپنی دینی خدمات کے ذریعے نیشنل و انٹرنیشنل سطح پر پاکستان اور اپنےگاؤں کا نام روشن کیا، مولانا محمد شعیب الازھری صاحب حضرت مولانا عبدالرحیمؒ مرحوم کے صاحبزادے ہیں 22جون1953بمقام ڈھیری زمان میں ان کی پیدائش ہوئ، پرائمری تعلیم گورن...

اظہار خیال

﴿اظہارِ خیال﴾ ازقلم: محمد اشرف 10محرم الحرام21ستمبر2018بروز جمعتہ المبارک اس وقت میں راولپنڈی میں ہوں اور یہاں کی گلی محلوں میں دس محرم کے دن کو بڑی عقیدت سے منایا جا رہا ہے، گلی محلوں میں لوگ فی سبیل اللہ مشروب اور چاول تقسیم کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر حضرت حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت کو سلام اور یزید پر لعن طعن کی پوسٹیں گردش کر رہی ہیں۔ ٹیلی ویژن پر واقعہ کربلا پر پروگرام نشر ہو رہے ہیں، ہر ٹیوی چینل پر مبلغین کے بیانات اور بریکنگ نیوز میں ملک بھر سے برآمد ہونے والے جلوسوں کی خبریں چل رہی ہیں۔ کسی ننھے بچے سے بھی پوچھا جاۓ تو وہ بھی بتاۓ گا آج کے دن نواسہ رسولﷺ سیدنا حضرت حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی شہادت واقعہ ہوئ ہے اس لیے آج کے دن کو سپیشل منایا جا رہا ہے۔ بعض مبلغین اور ذاکرین کے بیانات کے مطابق اسلام خطرے میں تھا اور حضرت حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے جام شہادت نوش فرما کر محمدﷺ کے دین کو بچایا۔ شیعہ سنی تمام مکاتب فکر کے لوگ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ حضرت حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  کی شہادت نے اسلام کو سربلند کیا۔ آج صبح سے میں ٹیوی کے سامنے بیٹھا یہ سب سن رہا ہوں۔ ا...

فیس بک کی شروعات مجھ سے ایک لڑکی نے کروائ۔ حیرت انگیز سچ پر مبنی واقعہ

پیپلزپارٹی کا دور حکومت تھا سنہء اچھی طرح سے یاد نہیں 2010یا11کا سال تھا تھا شاید، میرے پاس ایک نوکیا کا موبائل تھا جس کے کیمرے کے ساتھ  فلش بھی تھا، وہ ایک اور دوست کو پسند آ گیا اس نے اپنا موبائل مجھے دے کر میرا موبائل رکھ لیا۔ وہ موبائلQکا تھا اور ٹچ سکرین بھی تھا، اکثر میں سو روپے کا کارڈ ریچارج کر کے گوگل میں تصویریں دیکھتا اور کہانیاں پڑھتا، ایک دن ایک انجان نمبر سے میسج آیا (پلیز میرے نمبر پر20کا لوڈ کر دو میں بعد میں واپس کر دونگی) پہلے تو ایسے لگا کوئ دوست آزمانا چاہتا ہے۔ خیر زیادہ اسرار پر اس نے کال پہ بات کی اور ہم نے بھی بیلنس ڈلوا دیا۔ چونکہ ان دنوں لڑکیوں سے بات کرنا اچھا اچھا محسوس ہوتا تھا۔ پھر اکثر بات ہونے لگی اور کئ بار ہم نے بھی بخوشی لوڈ کروایا۔ ایک دن انہوں نے پوچھ لیا کہ آپ فیس بک استعمال کرتے ہو؟  سچ تو یہ تھا کہ ہم نے پہلی بار نام سنا تھا ہم نے بھی صاف صاف بتا دیا کہ نام ہی آج سن رہے ہیں، پھر مزید انہوں نے بھی نہیں بتایا لیکن ہمارے دل میں یہ حسرت پڑ گئی کہ آخر یہ فیس بک ہے کیا چیز؟ ہم نے چاچا گوگل پر فیس بک لکھ کر جاننے کی کوشش کی تو بالآخر کچھ نہ کچھ بات سمجھ...

پسند کی شادی

ہمارے معاشرے میں لڑکی کی پسند کو ناقابل معاف عمل سمجھا جاتا ہے، جو اس دور کی بدترین جہالت ہے، ہمارے معاشرے میں لڑکی کی پسند کے اظہار کو والدین اور بھائ اپنی بے عزتی سمجھتے ہیں، جس کے نتائج بہت خطرناک آتے ہیں۔ میں آپ کو دو واقعات بتاتا ہوں جن کی صداقت کا میں خود گواہ ہوں اور پروف بھی دے سکتا ہوں۔ میرے ایک جاننے والے کی مانسہرہ کے ایک گاؤں کی لڑکی سے فرینڈشپ بنی دوران تعلیم دونوں کا تعلق دینی مدارس سے تھا، ان کی دوستی بالآخر محبت میں بدلی ایک دوسرے کی فیملی اور گھر کے بارے میں بھی جانکاری ابھی نہیں ہوئ تھی کہ سنہ2005کا تباہ کن ذلزہ ہو گیا، جس کی وجہ سے دونوں بچھڑ گے، اور ایک دوسرے کے بارے میں یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ وہ زندہ ہیں یا وفات پا چکے۔ اس دوران ایک طویل عرصہ بیت گیا، لڑکا تو بھول گیا مگر لڑکی نے تلاش جاری رکھی، لڑکی کے گھر کئ رشتے آۓ مگر اس نے انکار کر دیا۔ اس دوران لڑکے کو اپنے رشتے داروں میں ایک لڑکی سے پیار ہو گیا، اور اس لڑکی کے والدین رشتہ دینے پر بھی آمادہ ہو گے اور ان دونوں کی انگیجمنٹ کر دی گئ۔ غالباً سنہ2013میں اس لڑکی نے تلاش کرتے کرتے بالآخر اس لڑکے کا فون نمبر حاصل ک...

یاد ماضی

یاد ماضی ازقلم: محمد اشرف سامعین اکرام میرے سوشل میڈیا کے عزت مآب دوستو دنیا کے اندر اربوں کھربوں انسان آۓ اور آئندہ بھی آتے رہیں گے،، ہر انسان کے اندر خوبیاں خامیاں پائ جاتی ہیں۔ اب تو چونکہ قربِ قیامت ہے، فسادات کا دور ہے، لڑائ جھگڑے قتل غارت گری کی سب سے بڑی وجہ انسانوں بلکہ مسلمانوں کے دل میں دنیا کے مال و دولت کی محبت کی وجہ ہے، ایک پلاٹ کی خاطر بھائ بھائ کا دشمن بنا پھرتا ہے۔ باوجود اس کے کئ لوگ ہمیں ایسے بھی ملیں گے جو دنیا سے بےنیاز انسانیت کا درد رکھنے والے ہوتے ہیں، لیکن نہ جانے ہم کیوں انہیں اہمیت نہیں دیتے۔ دو روز قبل میں نے فیس بک آن کیا تو میرے ایک کزن نے میاں عبدالمجید صاحب کی تصویر اپلوڈ کی ہوئ تھی، جسے میں نے دیکھا تو میں دیکھتا ہی رہ گیا،، بظاہر کوئ ایسی بات نہیں تھی مگر ناجانے پھر بھی کیوں نظریں تصویر پر رک گیئں خیالات انیسویں صدی کے آخری حشرے میں چلے گے، نہ جانے کیا کیا سوچا، اور کیوں سوچا، بعض سوچ کے الفاظ کو راز ہی رکھنا پڑتا ہے، میں نے میاں عبدالمجید صاحب کی تصویر سوشل میڈیا پر پہلی بار دیکھی ہے،،، سب سے پہلے تو آپ کو بتاتا چلوں میاں عبدالمجید صاحب کے بارے میں،...

شہادت حسینؓ اور تاریخی حقائق

شہادت حسینؓ اور تاریخی حقائق آج دس محرم الحرام کا دن ہے اس وقت دنیا کے کئی ممالک میں نواسہ رسولﷺ حضرت حسین ابن علیؓ کی یوم شہادت منائی جا رہی ہے۔ محرم شروع ہوتے ہی سوشل میڈیا پر فضائل حسینؓ کے ساتھ ساتھ یزید ابن معاویہ پر لعن طعن کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ شیعہ سنی آمنے سامنے آ جاتے ہیں اور بعض سنی شیعہ کے ساتھ مل کر اس موقع پر شیعہ کے موقف کی تائید کرتے ہوئے ان کی تمام کہانیوں کو درست منوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ واقعہ کربلا کیوں پیش آیا اس کی حقیقت کیا ہے، ابن زیاد کو یزید نے کیوں گورنر بنایا؟ اور حسین ابن علیؓ کے ساتھ کربلا میں کیا کچھ ہوا۔ ان باتوں کا مختصر خلاصہ پوری غیرجانبداری سے پیش کرنے لگا ہوں۔  حضورپاکﷺ کے وصال کے بعد خلافت صدیق اکبرؓ کے دور میں بیشمار فتنوں نے جنم لیا جن میں فتنہ مسلمہ کذاب اور منکرین ذکواۃ سرفہرست ہیں، ان فسادات کے خاتمے کے لیے مسلمانوں کی بڑی تعداد رتبہ شہادت پر فائز ہوئی، بیشمار قربانیوں کے بعد ان فسادات کا خاتمہ کیا گیا۔ ابوبکرصدیقؓ کے بعد عمرفاروقؓ کا دور خلافت آیا جس میں اسلام بہت تیزی سے پھیلا اور آدھی دنیا پر توحید و رسالت کے پرچم بلند ہوئے۔ یہود و نصاری...

شیعہ اقلیت کے باوجود کامیاب سنی اکثریت میں ہوتے ہوئے بھی منہ دیکھتے رہ گے

کرونا وائرس کے خطرات سے نمٹنے کے لیے دنیا بھر کی طرح پاکستان نے بھی لاک ڈاؤن اور سوشل ڈسٹنسنگ کے آپشن کو چنا جس پر ایک مزدور سے لے کر تاجران سمیت ہر شعبے سے وابسطہ افراد نے حکومتی احکامات کے آگے سرخم کرتے ہوئے اپنے مشکل ترین حالات میں زبردست انداز سے حکومتی احکامات کا خیر مقدم کیا۔ مذہبی طبقات، مدارس و مساجد سے وابسطہ لوگوں نے بھی حکومت کی تمام تر شرائطیں مانتے ہوئے بہتر انداز میں معاملات کو چلایا۔ گزشتہ روز 21ویں رمضان المبارک کو خلیفہ چہارم سیدنا علی المرتضیؓ کے یوم شہادت کے موقع پر اہل تشیع مذہب کے لوگوں نے حکومتی احکامات اور (ایس او پیز) کی دھجیاں اڑاتے ہوئے یوم علیؓ کے جلوس نکالے۔ جس میں واضح طور پر دیکھا گیا کہ یہ جلوس سندھ سرکار کی سرپرستی میں نکالے گے۔ ان جلوسوں کے انعقاد اور سندھ سرکار کی طرف سے اہل تشیعوں سے امتیازی سلوک نے سنی قوم اور (ایس اوپیز) پر عمل درآمد کروانے والے علماءاکرام کے ساتھ بھی بدترین بددیانتی کرتے ہوئے انکے ذہنوں میں کئی خدشات کو ابھار دیا ہے۔ اہل تشیعوں کے بلاجواز جلوسوں کو سرکاری سرپرستی میں نکلوانے والی سندھ حکومت اخلاقی طور پر کسی بھی صورت مساجد کو بند ن...